Stories

Life of a Poor Girl

poor-girl-story
Written by Beauty Tipso

 سمیرا کی ڈائری

یاد رہے اس کہانی میں لکھے گئے تمام نام فرضی ہیں۔ اگر غلطی سے کسی کا نام ملتا ہو۔ یا کسی کی کہانی اس سے ملتی ہو تو ہم معذرت خواہ ہیں
۔ لیکن ہمراہ مقصد صرف لوگوں کو آگاہی دینا ہے نہ کہ کسی کی زندگی پر کوئی تبصرہ لکھنا۔

سمیرا کا تعلق ایک گائوں سے ہے ۔ وہ اپنے امی، ابو اور بھائیوں کے ساتھ ہنسی خوشی اپنے گھر میں رہ رہی تھی۔ ایک گڑیا ، خوبصورت کا پیکر ، دل چاہے کہ پورا دن پاس بیٹھا کہ سنا جائے۔ ایسی تھی سمیرا۔ اپنی ابتدائی تعلیم نواحی گائوں سے ہی جاری رکھے ہوئے تھی۔ اچانک نہ جانے کہاں سے برے دن آٹپکے کہ سمیرا کے والد صاحب نے ان سے علیحدگی اختیار کرلی اور دوسری شادی رچا لی۔
ایسے حالات میں سمیرا بہت ڈر، سہم گئی تھی۔ نہ جانے کیوں اسے لگ رہا تھا کہ اب زندگی ختم ہو گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب کسی کا والد نہیں رہتا ان کے ساتھ تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ اور اگر یہ کسی معصوم بچی کہ ساتھ ہو تو اسکی تو دنیا ہی تباہ ہو جاتی ہے۔
مگر قدرت نے نہ جانے سمیرا کو کتنا بڑا دل دیا تھا۔ اس نے اسے بھی سہہ لیا اور اپنے والد سے علیحدہ ہوکر اپنے ماموں کی طرف رہنے لگ گئی۔ جہاں پر اسے اور اسکی ماں کو بات بات پر یہی کہا جاتا تھا کہ تم لوگ ہو ہی ایسے جس کی وجہ سے تمہارا والد تمہیں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ ہر طرح کی جلی سڑی باتیں سننے کے بعد بھی سمیرا نہ جانے کیسے خود کو ہنس مکھ بنائے ہوئے تھی۔ سمیرا کے دو بھائی تھے۔ ایک بڑا بھائی اور ایک چھوٹا۔ یہ دونوں بھائی سمیرا کی جان تھے۔ کوئی شک نہیں کہ اکثر آپس میں لڑ بھی پڑتے تھے مگر پھر بھی بھائی تو بھائی ہی ہوتے ہیں نہ۔
سمیرا کا بڑا بھائی گھریلو مسائل کی وجہ سے نہ تو کوئی خاص تعلیم حاصل کر سکا اور نہ ہی ذہنی طور پر صحت مند رہا۔ کیونکہ وہ یہ سب حالات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور ان پر بہت ڈرا ہواتھا۔ کہ نہ جانے آگے زندگی میں کیا کیا مسائل آنے والے ہیں۔ انہی پریشانیوں کو لیکر سمیرا کا بڑا بھائی اپنی ذہنی حالت خراب کر چکا تھا۔
ایک غریب ، تنہائی والی زندگی گزارنے والی سمیرا ، دن رات محنت کرتی۔ گھر کے سارے کام کاج میں ماں کا ساتھ دیتی۔ کیونکہ وہ ماموں کی طرف رہ رہی تھی تو ان کے گھر کے سارے کام سمیرا اور اسکی ماں کو ہی دیکھنے ہوتے تھے۔ دن گزرتے گئے، سمیرا اور اسکی ماں جلی کٹی باتیں سنتی گئیں۔ مگر اس سب کا سمیرا کی زندگی پر کوئی اثر نہ ہوا وہ دن رات کام کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھے رہی۔
سمیرا کا خواب تھا کہ وہ بہت پڑھے لکھے اور اچھی نوکری کرے اور پھر ان سے سب باتوں کا بدلا لے۔ اس زمانے میں بے۔اے یا بی ۔ کام ایک بڑی ڈگری ہوتی تھی۔ جس کا خواب سمیرا دیکھ چکی تھی۔ کیونکہ اسکے دور کے ایک رشتہ دار تھے جنہوں نے بی۔ کام کیا ہوا تھا اور وہ ماہانہ دو لاکھ سے زیادہ پیسے کما رہے تھے۔ اور ایک اچھی زندگی گزار رہے تھے۔ یہی سب دیکھتے ہوئے سمیرا نے اپنا خواب پورا کرنے کے لیے پوری محنت شروع کردی۔ بے انتہا مشکلوں کو ساتھ لیے سمیرا اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھی۔ ابھی سمیرا جماعت چہارم کی طالبہ تھی کہ اسے کلاس میں ایک لڑکا نظر آیا جو اسے بے انتہا پسند آیا وہ چاہتی تھی کہ وہ اس کا دوست بنے ۔ تنہائی کی ماری سمیرا، کسی طرف سے خوشی کی تلاش میں تھی۔

سمیرا کا پہلا پیار

یہ سمیرا کی زندگی میں ایک عجیب موڑ تھا ، نہ جانے کیوں اب سمیرا دن ، رات اب اسی لڑکے کے بارے میں سوچتی رہتی تھی۔ حقیقت تو یہ تھی کہ وہ تنہائی اور مجبوری کی ماری لڑکی تھی۔ جسکی وجہ سے وہ چاہتی تھی کہ کہیں سے کوئی خوشی اس کے پاس بھی آئے مگر نہ جانے ایسا کیا تھا کہ سمیرا کی کوئی خواہش ، کوئی دعا رنگ نہیں لا رہی تھی۔ دن گزرتے گئے۔ ایک ہی کلاس میں پڑھتے رہے مگر اس سب کے باوجود سمیرا کبھی اپنی محبت کا اظہار نہ کر سکی۔ یہ اس کی عمر بھی نہیں تھی کہ عشق لڑاتی پھرتی مگر دل تو نادان ہے جہاں آجائے مر ہی مٹتا ہے۔
یوں ہی دن گزرتے گئے سمیرا اپنی محبت دل ہی دل میں لیے سکول جاتی اور خوابوں میں اسے دیکھتی رہتی مگر کبھی اسے کہہ نہ پائی۔ دن گزرتے گئے اور ایک دن وہ آیا کہ جب اس نے پانچویں جماعت پاس کرلی۔ اور اب آگے پڑھنے کے لیے سکول تبدیل کرنا تھا۔ اور اب کی بار سمیرا کا سکول الگ سے تھا اور اس لڑکے کا اسکول الگ۔ کیونکہ گائوں میں پانچویں جماعت کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم اکٹھے نہیں ہوتی۔
سمیرا کا یہ خواب چکنا چور ہو گیا۔ جب اسے اس بات کی خبر ہوئی کہ اب وہ اسے دیکھ بھی نہیں سکے گی تو بے زار روئی ۔ اور گھنٹوں تک روتی رہی۔ جس پر اسکی ماں اور بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ وہ رونا بند کرے اور اصل بات بتائے کہ ہوا کیا ہے۔ مگر سمیرا ڈری سہمی گھر میں کچھ نہیں بتایا اور زار و قطار روتی رہی۔ یہ سلسلہ لمبے عرصے تک محیط تھا۔
اب سمیرا کی زندگی پھر سے ایک روانگی میں آچکی تھی۔ اس کی بہت ساری لڑکیاں دوست بن چکی تھی۔ اب اسکے پا س باتیں کرنے والی سہلیاں تھیں۔ دن رات اپنی سہلیوں سے باتیں کرنا، کبھی کبھار جو وقت ملتا تو راتوں کو انکی طرف رہنے چلے جانا۔ اور کبھی کبھار انکو اپنی طرف بلا لینا ۔ اسطرح سے ایک اچھی زندگی گزر رہی تھی۔ مشکلوں بھری زندگی، ہر طرف خاموشیاں، تنہائیاں سمیرا کی زندگی کو گہرے ہوئے تھیں۔ ایسے میں اسکی زندگی بہت مدہم پڑی ہوئی تھی۔ مگر سمیرا نے ہمت نہ ہاری اور اپنی تعلیم کو جاری رکھے رہی۔ اسکی سکول کی فیس کبھی ماموں دے دیتے اور کبھی کوئی۔ گھر کے خرچے کے لیے اس کی امی جان خود نوکری کرتی تھیں۔ نوکری بھی بس نام کی نوکری تھی۔ جس میں ان سے کام زیادہ لیا جاتا تھا اور پیسے بہت تھوڑےدیئے جاتے تھے۔ مگر ایسے میں بھی وہ اپنے گھر کا خرچہ چلائے جا رہے تھے اور زندگی بسر کررہے تھے۔

سمیرا کا پہلا خواب جو پورا ہونے جا رہا تھا

sumaira-love

Sumaira’s First Love

سمیرا کی زندگی کا پہلا خواب تھا کہ وہ بی ۔ کام یا بے ۔ اے پاس کرے ۔ وقت نے نہ جانے کون کونسی مشکلات کا سامنا کروایا مگر سمیرا نہ تھکی، نہ ہاری ۔ ہارتی بھی کیسے۔ قدرت نے اسے جو ایک خوبصورت دل اور بہترین اخلاق جو دیا تھا۔ مشکلوں اور پریشانیوں سے گزری سمیرا کی زندگی میں وہ دن آہی گئے تھی جن کی اسے برسوں سے خواہش تھی۔ یعنی کہ اس نے آئی کام پاس کر لیا تھا۔ انتہائی خوش سمیرا رزلٹ لیے گھر کو لوٹی ۔ خوشی سے پھولے نہ سماہ رہی تھی۔ ابھی چھٹیاں ہی چل رہی تھیں کہ سمیرا کی طبیعت انتہائی خراب ہوگئی۔ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ شاید اب وہ زندہ نہ رہ سکے۔ ہر پل تڑپ رہی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی مچھلی کو پانی سے باہر نکال دیا گیا ہو۔ مگر ایسے میں اسکا ساتھی کوئی بھی نہ تھا ۔ اور وہ اپنے پہلے پیار کو بھی شدت سے دوبارہ سے یاد کرنے لگ گئی تھی۔ نہ جانے یہ ذہن بھی کیسی چیز ہے ۔ جب مشکلیں آتی ہیں تو ہر طرف سے مشکلات منہ نکال لیتی ہیں۔ نہ تو والد کا سایہ سر پر تھا اور نہ ہی کوئی خواہش پوری ہو رہی تھی اور نہ ہی سحت اچھی تھی۔
زندگی کے برے ترین دنوں میں سے دن چل رہے تھے۔ جو اسکی خواہش تھی کہ وہ تعلیم مکمل کرے ۔ شاید اب یہ ناممکن ہوتا جا رہا تھا۔ اور دن بدن اسکی صحت زیادہ سے زیادہ خراب ہو رہی تھی۔ گھر کے حالات ایسے تھے کہ بڑی مشکل سے گھر کے اخراجات چل رہے تھے۔ علاج معلالجے کے لیے پیسے کہاں سے آتے۔ اسکی ماں نے اپنے بھائیوں سے پیسے مانگنے کا بہت بار دل میں سوچا مگر ہر بار یہ سوچ کر چپ رہ جاتی کہ سب کیا کہیں گے ۔ گھر میں لیٹی سمیرا ایک مردہ سا مجسمہ بنے رہ گئی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا کہ شاید اب اسکا کوئی خواب پورا نہیں ہونے والا اور اسکی زندگی بس اب رک سی گئی ہے۔
مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ پاک تو غفورورحیم ہے۔ وہ جو چاہے تو اسکے خزانے میں کس چیز کی کمی ہے۔ ایک دن اسکے گھر کوئی مہمان آئے وہ بہت ہی رحم دل اور انسانیت کی خدمت کرنے والے شخص تھے انہوں نے سب کا پوچھا ، اور سمیرا کا بھی حال معلوم کیا جس پر انہیں ساری صورت حال بتائی گئی۔ اس پر انہوں نے سمیرا کا علاج کروانے کے لیے کہا اور مالی مدد بھی کی۔ اس سارے کے بعد بھی سمیرا کی صحت ٹھیک نہیں تھی ہو رہی۔ ایک دن وہ ٹی وی پر اشتہار دیکھ رہے تھے جس میں کسی چھوٹے موٹے حکیم کا پتہ معلوم پڑا۔ وہ اس حکیم کے پاس گئے اور اس سے دوائی لی۔ ایسا جادو کہ نہ جانے کیسے دو بار ہی دوائی لینے کے بعد سمیرا بالکل ٹھیک ہو گئی۔
اب سمیرا کو پھر سے امید ہونے لگی کہ وہ پڑھ سکے گی اور ایک اچھی نوکری حاصل کرسکے گی۔ اب جو آگے کا چیلنج تھا وہ یہ تھا کہ تعلیم کے لیے اخراجات کہاں سے پورے کیے جائیں ۔ ابھی ان سوچوں میں ہی تھے کہ اسکے ماموں نے خود اس کو بلا کر کہا کہ میں تمہارا فلاں جگہ داخلہ کروا رہا ہوں کل سے وہاں جانا شروع کر دو۔ یہ دن سمیرا کی زندگی کا سب سے اہم دن بن گیا تھا کیوں کہ کل سے وہ کالج جانے والی تھی اور وہ بھی اپنے خواب کی ڈگری کے لیے۔ یعنی کہ بی۔ کام کی کلاسسز شروع کرنے والی تھی۔ رات بھر جاگتے سمیرا، ہزاروں خواب ذہن میں لیے کبھی کچھ سوچتی تو کبھی کچھ۔
خیر وہ رات بھی ہر رات کی طرح گزر ہی گئی۔ یہ وہ واحد رات تھی پچھلے کئی سالوں سے جب سمیرا کہ دماغ میں کالج کے علاوہ کچھ آہی نہیں رہا تھا۔ علی الصبح سمیرا جاگی اور بھرپور تیاری سے کالج پہنچی جہاں پر اسکے ماموں نے پہلے سے ہی اسکے لیے بات کر رکھی تھی۔ اب اس کا داخلہ مشہور کالج میں ہو گیا جہاں کا سپنا بھی شاید کبھی اس نے نہ دیکھا تھا۔
مگر اب زندگی میں ایک عجیب و غریب چیلنج تھا کیونکہ شہر بھر کی امیر ترین لڑکیاں بھی یہاں سے تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور وہ روزانہ اچھے سے اچھے کپڑے پہن کر آتیں اور لہراتی پھرتیں۔ سمیرا نے چند لڑکیوں سے دوستی کر لی جو اسی کی طرح غریب خاندانوں سے تھیں اور وہ بھرپور زندگی گزرنے لگی۔ دن رات کی محنت سے وہ کامیابیوں کی سیڑھیاں چڑھتی گئی اور بی کام پاس کر ہی لیا۔
آسمانوں پہ اڑتی سمیرا ، لہراتی، گنگناتی رزلٹ لیے سمیرا گھر کو لوٹی اور اپنی امی کو چومتے، مسکراتے اور خوشی بھرے لہجے سے بولی امی اب وہ دن گئے۔ اب ہمارا وقت آنے والا ہے اب اللہ کرے گا میں اچھی نوکری لگ جائوں گی اور ہماری ساری زندگی بدل جائے گی۔
وہ بیچاری نہ جانتی تھی کہ بے کام کی ڈگری سے قسمت نہیں بدلتی بلکہ قسمت میں جو لکھا ہو وہی ملتا ہے۔ بے انتہا کوشش کرتی رہی کہ اسے کوئی اچھی سی نوکری ملے مگر نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ کہیں بھی اسکے لیے کوئی نوکری نہیں تھی۔ ایس الگ رہا تھا جیسے اسکی قسمت بہت ہی خراب ہے۔ کہیں سے بھی نوکری کہ کوئی سوجھ بوجھ نہیں لگ رہی تھی۔ پھر ایک دن اسکی ملاقات اپنے استاد محترم سے ہوئی انہوں نے اسے بتایا کہ بیٹا اب بی کام والوں کو کوئی نوکری نہیں دیتا اگر خود کا کیرئیر بنانا ہے تو آئی ٹی میں کوئی ڈگری کر لو۔ ہنس کر نوکری مل جائے گی۔ اب سمیرا کی زندگی میں نیا چیلنج آگیا تھا۔

سمیرا کا نیا چیلنج

poor-girl-story
زندگی نے اپنا منہ موڑ لیا تھا۔سمیرا کو چیلنج پہ چیلنج دیئے جا رہی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے اسکی قسمت اسی سے روٹھی ہوئی ہے ۔ مگر ان سب مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود با ہمت سمیرا کبھی ہمت نہ ہاری اور اپنے تمام رشتہ داروں سے درخواستیں کرتی رہی کہ مجھے آگے پڑھنے کے لیے مدد کر دیں۔ مگر اتنا کون اچھا جو اسکی منتیں مانتا ۔ ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔ سمیرا کبھی کسی اکیڈمی میں پڑھاتی تو کبھی گھر پہ بچوں کو پڑھاتی ۔ مگر اسی اثناٗ میں سمیرا کے دور کے رشتہ دار بیرون ملک سے تشریف لائے اور اس سے ساری معلومات لیں۔ انہوں نے دل ہی دل میں سوچا کہ کیوں نہ اسے آگے پڑھایا جائے اور بعد میں اس کا رشتہ اپنے لڑکے لیے گے۔ ویسے بھی غریب ہے اسکی مدد بھی ہو جائے گی اور بعد میں کونسا کوئی اس نے باہر جانا ہے۔ چلو ہمارا کاروبار بھی دیکھ لے گی اگر پڑھ لکھ لے گی تو۔ اسطرح سمیرا کی زندگی ایک بار پھر خوشی کی لہر لیے ایک نئی کروٹ لینے لگی۔ اب کی بار سمیرا کو اپنے گائوں سے دور شہر میں جا کر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کلاسسز لینا تھیں۔ اسکے لیے اس نے اپنی ماں کو اور بھائی کو ساتھ لیا اور بہت دور شہر کی ایک مشہور یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے نکل پڑی۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے اسکا داخلہ ہو گیا۔ جیسا وہ سوچ کہ آئی تھی ہر چیز اسکے برعکس ہو رہا تھا۔ پڑھائی انتہائی مشکل تھی۔ حالات بھی بہت مشکل تھے ۔ بیرون ملک سے جو رشتہ دار آئے تھے انہوں نے یونیورسٹی کی فیسسز تو دے دیں مگر یہاں پر رہنا، سہنا، کھانا پینا اور یونیورسٹی کے دوسرے اخراجات بہت مشکل ہو رہا تھا۔ کبھی کبھار تو وہ رورو کہ بنا کھائے پیئے بھی سو جاتی تھی۔ یونیورسٹی کی تعلیم کی مشکلات الگ سے تھیں۔ کیونکہ وہ ایک گائوں سے تعلق رکھتی تھی تو اسے چھوٹی چھوٹی چیزوں کی معلومات بھی نہیں تھیں۔ اور  اوپر سے کمیپوٹر کے بارے میں تو اسے زیادہ کچھ معلوم نہ تھا۔

kind-hearted-girl

Kind Hearted Sumaira

(قسط نمبر ۱)

About the author

Beauty Tipso

Yasir Hafeez, Student of Information and Communication Technology. Writing article on Health, Education, Beauty Tips, Beauty Tips and Tricks, Beauty Secrets, Beauty Recommendation, Beauty Tips in Urdu, Beauty tips for girls, Research, Communication, Technology is his hobby. Basically he is an IT Professional as well so he share knowledge through writing. You can also read Yasir Hafeez's articles at Beauty Tips, http://www.beautytipso.com

Leave a Comment