بیوٹی ٹپس

Look Younger In Old Ages

beauty tips for girls
Written by Beauty Tipso

بڑھاپا ٹالا جا سکتا ہے اور کھوئی جوانی پھر سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

skin-whitening-tips-at-home

سائنس کی دنیا میں بڑھاپے کے متعلق ایک نیا تصور پرورش پارہا ہے۔ اب جسم کی طاقت اور خوبصورتی کو قدرت کے منصوبہ کا ناگزیر حصہ نہیں سمجھاجاتا روز بروز سائنسدانوں کا یہ شبہ بڑھ رہا ہے کہ بڑھاپا قبل از وقت آجاتا ہے اور کچھ سائنسدانوں کا تو یہاں تک خیال ہے کہ اگر ایک بار ہم بڑھاپے کے عمل کو مکمل طور پر سمجھ لیں تو انسان کی زندگی 150سال سے 200سال تک عام ہو جائے گی۔ دوسرے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بڑھاپا بھی ایک مڑج ہے اور جس طرح دوسرے امراض کا علاج ممکن ہے اسی طرح بڑھاپے کا علاج ہوسکتا ہے۔ بیماری کی شدت کی تھیوری کے موجد ڈاکٹر ہانس سیلائی کا کہنا ہے کہ بڑھاپا بھی ایک مڑج ہے اور جس طرح دوسرے امراض کا علاج ممکن ہے ۔ اسی طرح بڑھاپے کا علاج ہوسکتا ہے۔ بیماری کی شدت کی تھیوری کے موجد ڈاکٹر ہانس سیلائی کا کہنا ہے کہ آج تک کوئی شخص بھی بڑھاپے کی وجہ سے نہیں مرا۔ لیکن ہم ابھی تک بڑھاپے کے عمل کو پتہ لگانے کے طریقہ سے نہ آشنا ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھی ڈاکٹروں سے کہا ہے کہ وہ یہ معلوم کریں کہ آیا بڑھاپے کو دور کیا جاسکتا ہے؟

اس کا مکمل جواب تو مسلسل تحقیق کے ذریعہ ہی مل سکتا ہے لیکن اس وقت بھی ڈاکٹروں کو بڑھاپے کے عمل کو رفتار کافی حد تک گھٹانے کے سلسلہ میں کافی معلومات ہیں اور بعض حالات میں تو وہ بڑھاپے کے پہیئے کو الٹا چلانا بھی جانتے ہیں۔ اگر آپ بیس سال یا تیس سال کی عمر میں ہیں تو اس وقت آپ جو کریں گے وہ بعد کی عمر میں ڈرامائی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ اگر آپ 40سال یا پچاس سال کے ہیں تو آپ اس عمر کو کم کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔

آپ خود کو کتنا بوڑھا محسوس کرتے ہیں؟

skin-whitening-tips-at-home

لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آپ کو مشورہ دینے سے قبل ہی بڑھاپے کی نفسیات کے متعلق بعض ضروری باتوں پر روشنی ڈال دینی چاہیے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر شخص یکساں رفتار سے بڑھاپے کی طرف بڑھتا ہے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ غالبا ہم میں سے ہر شخص کو 45سال کے کسی ایسے آدمی کا علم ہو گا جو 20سال کے آدمی کی طرح کام کرتا ہے۔ اور 60سال کے کسی ایسے شخص سے بھی واقفیت ہوگی جو دیکھنے میں 45سال کا لگتا ہے اور کام میں 45 سال کے آدمی ہی کی طرح کرتا ہے۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ حالانکہ اس سلسلہ میں بعض دلچسپ اندازے ضرور ہوتے ہیں اس امر کے بھی اشارے ملے ہیں کہ نوجوان ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچے کی درازی عمر کے امکانات زیادہ عمر کی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بدقسمت بچے کی عمر کے مقابلہ میں زیادہ ہوتے ہیں۔ اموات کے اعداد و شمار کے مطالعہ اور چوہوں اور دوسرے جانوروں پر لیبارٹری میں کیے گئے تجربات سے بھی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

غالبا زیادہ عمر کی ماں اپنے بچے کے خون میں ضعیفی کے ذرات پیدا کر دیتی ہے جس کی وجہ سے ان کے ضعف اور کمزوری کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔

لیکن ضعیف ہونے کی رفتار میں فرق ہی پر کہانی ختم نہیں ہو جاتی۔ ڈاکٹر این جے بیرل کا کہنا ہے کہ:

کسی 30سالہ شخص کا دل 1022آنتین 40 پٹھے 132 اور دماغ 9ایرس کا ہو سکتا ہے۔

About the author

Beauty Tipso

Yasir Hafeez, Student of Information and Communication Technology. Writing article on Health, Education, Beauty Tips, Beauty Tips and Tricks, Beauty Secrets, Beauty Recommendation, Beauty Tips in Urdu, Beauty tips for girls, Research, Communication, Technology is his hobby. Basically he is an IT Professional as well so he share knowledge through writing. You can also read Yasir Hafeez's articles at Beauty Tips, http://www.beautytipso.com

Leave a Comment