Beauty Tips Career Exercise Foods Health Care Other Skin Care

14 August 1947, Independence Day

آزاد کسے کہتے ہیں یہ تو شاید ہم سب ہی جانتے ہیں، مگر ہم آزاد ہیں یہ نہیں مانتے۔۔۔ تو ذرا رکئے آپ کو بتاتے ہیں کہ آزاد اور غلام میں کیا فرق ہے اور جس آزاد کو ہم آزادی ماننے سے انکار کر رہے ہوتے ہیں اگر وہ آزادی ہمیں نصیب نہ ہو تو کیا ہو؟

 
 مسلمانوں کی ایک بھرپور تحریک چلائی جاتی ہے جسے ہم تحریک پاکستان بھی کہتے ہیں۔ جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں دیں۔ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ یہ محظ ایک ملک کی خاطر یا کسی ذاتی مقصد کے لیے دی جانے والی قربانیاں نہیں تھیں بلکہ ان قربانیوں کا مقصد تھا ایک آزاد ریاست جہاں پر مسلمان آزادی کے ساتھ اپنی عبادات کر سکیں۔ اور اپنی تعلیمات کو جاری رکھ سکیں۔چونکہ اس دور میں غیر مسلم ہندوستان پر قابض تھے اور مسلمانوں کو ہر طرح کی دشواری تھی چاہے وہ عبادات سے متعلق ہو یا پھر قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے سے متعلق ہو۔
اس مقصد کے لیے کی جانے والی جدوجہد ایک طویل عرصے کے بعد بالآخر قیام پاکستان کی صورت میں سامنے آئے جس کے لیے ہمارے لیڈروں نے دن رات محنت کی اور اپنی جانوں تک کے نظرانے پیش کر دیئے ۔ اور ان کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا اور مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کا ہونا تھا۔
قیام پاکستان
قیام پاکستان کے بعد لاکھوں مسلمانوں نے انڈیا سے پاکستان کے لیے ہجرت کرنا شروع کی۔ نہ تو لوگوں کے پاس اتنے وسائل تھے کہ وہ انتا بڑا سفر کرسکیں اور نہ ہی لوگ تعلیم یافتہ تھے کے کسی ترتیب سے وہاں سے نکلتے۔ ایسے میں ہر کسی کو وہاں سے گھر باہر بھی چھوڑنا لازمی تھا کہ وہاں کی حکومت اور عوام مسلمانوں کے خلاف تھے اور وہاں رہنے والوں کو یہ کہا جا رہاتھا کہ اپنے ملک میں جائو اور جو لوگ وہاں پر ہی رہنا چاہتے تھے یا رہتے تھے ان کو وہیں پر قتل کر دیا جاتا تھا۔
اس ضمن میں لاکھوں لوگ ہندوستان سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے جسے انڈیا کی ریل گاڑی نے لیکر آنا تھا۔ مگر افسوس والی بات کہ انڈین گورنمنٹ اور انڈین فوج نے ان نہتوں کو راستے میں ہی شہید کر دیا ۔ اس طرح کے ہزاروں واقعات ہوئے جو کہ آج بھی ہم بھول نہیں سکتے اور شاہد ہمیں بھولنے بھی نہیں چاہیے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب تاریخ لکھی جا رہی تھی۔ مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا۔ ہر جگہ پر خون ہی خون تھا۔ لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب ہم آزاد ہو رہے تھے۔ اور ہمارے بزرگ ، نوجوان، خواتین بچے نہ صرف شہید ہوئے بلکہ اپنی عزتیں لٹائیں۔ گھر باہر چھوڑا جانتے ہیں کہ کیوں؟
آزادی کے لیے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور آزادی کہتے کسے ہیں۔ آج کل یوم آزادی پر ہم لوگ بڑے فخر سے باجے بجاتے اور اپنی خواتین کو چھیڑتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ آزاد کا مطلب اپنے ملک کی حفاظت کرنا ۔ اپنوں کا خیال رکھنا اور خواتین کا احترام کرنا ہے نہ کہ سیٹیان بجانا اور لوگوں پر جملے کسنا ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارا ملک سلامت رہے اور ہمیں اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے ۔۔۔

About the author

admin

Yasir Hafeez, Student of Information and Communication Technology. Writing article on Health, Education, Beauty Tips, Beauty Tips and Tricks, Beauty Secrets, Beauty Recommendation, Beauty Tips in Urdu, Beauty tips for girls, Research, Communication, Technology is his hobby. Basically he is an IT Professional as well so he share knowledge through writing. You can also read Yasir Hafeez's articles at Beauty Tips, http://www.beautytipso.com

Leave a Comment