بیوٹی ٹپس

خوبصورتی اور جوانی کا بنیادی تخیل

skin-whitening-tips-at-home
Written by Beauty Tipso

خوبصورتی کیا چیز ہے؟ اسکی مناسب تعریف آج تک نہیں ہو سکی اور شاید کبھی ہو بھی نہ سکے۔ مختلف قوموں میں خوبصورتی کے مختلف اصول پائے جاتے ہیں لیکن حقیقی خوبصورتی پہچاننے کے لیے آنکھوں کو بہت سدھارنے کی ضرورت ہے۔ چین اور جاپان کے لوگ چپٹی ناک اور ابھری ہوئی گال کی ہڈی کو خوبصورتی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ چین میں وہ عورت زیادہ خوبصورت اور حسین سمجھی جاتی ہے۔ جس کے پائوں سب سے چھوٹے ہوں۔ یہاں تک کہ امیر گھرانوں کی خوبصورت عورتین چل پھر بھی نہیں سکتیں۔ انہیں بچپن ہی میں لوگے کے جوتے پہنائے جاتے ہیں۔ تاکہ پائوں زیادہ بڑھ نہ سکیں۔ ۔ ولائت میں کمر کا چھوٹا ہونا خوبصورتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ حبشی لوگ موٹے ہونٹوں اور چمکدار رنگ کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح مختلف قوموں میں خوبصورتی کا تصورالگ الگ ہے لیکن اصل میں کوئی بھی عورت حسین یا خوبصورت نہیں کہی جا سکتی اگر اس میں کوئی بیماری ہو۔ جسم کے مختلف اعضاء کے سڈول ہونے کو ہی دوسرے لفظوں میں خوبصورتی کہتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بیماریوں سے دور رہنا ہے۔ جب کہ ہر ہڈی کی شکل ضرورت کے مطابق ہوتی ہے۔ اور گوشت کے ہر پٹھے کی بناوٹ ٹھیک ٹھیک ہوتی ہے۔ چربی ضرورت کے مطابق ہوتی ہے تو اس جسم کی کانٹ چھانٹ میں خوبصورتی کی جھلک نظر آتی ہے۔ جب جلد کی بناوٹ ٹھیک ہوتی ہے اور خون لانے لے جانے والی نسوں کا عمل مناسب طور ہوتا ہے تو اس جسم میں بہترین چمک دمک دلکشی اور ملامت پوری طرح پائی جاتی ہے۔ خوبصورت کے لیے یہ باتیں خاص سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں۔

خوبصورتی کے لیے اہم جانی جانے والی چیزیں

beauty-tips

کالے بال، لمبے اور چمکدار ہوں۔ چہرہ صاف شفاف اور پرنور ہو۔ گردن لمبی اور موٹی ہو۔ چھاتی بھری ہوئی ہو۔ کمر پتلی ہو، جانگھ اور کمر کا درمیانی حصہ کچھ موٹا ہو۔ اس کے بعد ٹانگین خاص طور پر پتلی ہوں۔ سنسکرت ادب میں خوبصورت ٹانگوں کو کدلی کے پیڑ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور کہیں ہاتی کی سونڈ سے مشابہٹ دی گئی ہے۔ پائوں نہ بہت بڑے اور نہ چینی عورتوں کی طرح بہت چھوٹے ہوں۔ ایک پراچین کتاب میں جس کے مختلف اعضاء کی خوبصورتی اس طرح بیاں کی گئی ہے۔

عورتوں کے جسم کے چار اعضائوں میں رونق اور تازگی ہونی چاہیے۔ آنکھوں کی سفیدی، دانتوں کی قطار، ناخون اور چہرے کی تازگی، اور چار اعضاء قدرے سیادہ ہونے چاہیں۔ یعنی بال، پلکیں ، آنکھوں کی پتلیاں اور ابرد۔

چار اعضاء خون کے رنگ کے ہوں۔ مسوڑے، زبان ، گال اور ہونٹ

چار اعضاء گول ہوں۔ سر، انگلیوں کا اگلا حصہ، پیر کی ایڑی اور باہیں۔

چار اعضاء لمبے ہوں۔ قد، سر کے بال، پلکیں، اور انگلیوں کے پور

چار اعضاء موٹے ہوں۔ پوتڑ، پنڈلیاں اور جانگھیں اور گردن

چار اعضاء خوب بڑے یا چوڑے ہوں۔ پیشانی، آنکھیں، چھاتی اور کندھے۔

چار اعضاء چھوٹے ہوں۔ پائوں، کلائی، چھاتی ، زبان

چھاتی کا چھوٹا ہونے سے مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ چھاتی نظر ہی نہ آئے جو کہ آج کل کی اکثر لڑکیوں کے ساتھ ہے۔ اگر آپ کی چھاتی بہت ہی چپٹی ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آپ کی صحت اور تندرستی کا راز بتا رہی ہے ۔ یعنی کہ آپ صحت مند نہیں ہیں۔ خوبصورت کا سب سے زیادہ دارآمدار عورتوں کی چھاتی کا بھرا ہوا اور بھرپور ہونا ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ نتھنوں اور منہ سے نکلنے والی سانس کو خوشبودار ہونا چاہیے۔ ناک، منہ وغیرہ چھوٹے ہوں۔ کولھے اور پیٹ گد گدے اور نرم ہوں۔ اور اسطرح کی کئی خوبیاں ہوں تو ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ عورت خوبصورت ہے۔

مہنگا میک اپ لگا کر سفید منہ کرلینے کا نام خوبصورتی ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ خوبصورتی تو نیچرل ہوتی ہے۔ اور ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی نیچرل خوبصورتی کو برقرار رکھا جائے نہ کہ میک اپ اور دوسری کریمیں لگا کر رہے سہے کو بھی ختم کیا ہے۔

دراصل ان باتوں کو لے کر تصویر بنائی جائے تو اس مورتی کو خوبصورتی کی کامل مورتی کہا جاسکتا ہے۔ ایسی مورتی کو شاید دنیا کے ہر حصہ کے لوگ خوبصورت کہنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

خوبصورتی اور زمانہ قدیم

heroin-look

زمانہ قدیم کا خوبصورتی کا یہ اصول بلاشک حفظان صحت کے اصولوں پر مبنی ہے۔ آنکھوں کی سفیدی کا چمکدار ہونا بیماریوں سے دور رہنے کی علامت ہے۔ اگر اس میں نیلا پن، پیلا پن یا سرخ لکیریں یا کالے دبھے ہوں تو یہ سب مختلف امراض ظاہر کرتی ہیں۔ ناخونوں کے نچلے اگلے حصے سفید نہ ہوں تو یہ بھی کسی شکایت کی یا بیماری کی طرف اشادہ گرتے ہیں۔

لیکن ناخن کا حصہ سرخ ہونا چاہیے یہ خون کی زیادتی وردانی کی نشانی ہے۔ دانتوں کی قطار اگر دودھ جیسی سفید نہیں تو یہ بھی بیماری کی نشانی ہے۔ خوبصورت اور سرخ مسوڑھے بیماری سے دور رہنے کی علامت ہیں۔ گال، ہونٹ اور زبان کی سرخی خون کی مقدار ضرورت کے مطابق ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ ہمارے ہاں زبان، ہونٹوں اور مسوڑھوں کو بناوٹی طور پر رنگنے کا رواج چل پڑا ہے۔ لیکن خوبصورتی وہی ہے۔ جس سے یہ حصے قدرتی طور پر سرخ ہوں۔ سر، لچک اور ابروئوں کے بالوں کی ساہی خوبصورتی کا حصہ ہے۔ گول اور اوپر سے کچھ ابھرا ہوا سر عقلمندی اور گہم اور دانش کو ظاہر کرتا ہے اور چپٹا، پچکا سر گنوار پن اور بے وقوفی کو ظاہر کرتا ہے۔ گول کلائی خوبصورت معلوم پڑتی ہے۔ زبان چھوٹی خوبصورت ہوتی ہے۔ سر کے بال لمبے ہی دلکش ہوتے ہیں۔ چھوٹے رہنے والے اور گرتے ہوئے بال کسی بیماری کی اطلاح دیتے ہیں۔ ناک ، منہ اور بغل وغیرہ میں بدبو نہیں ہونی چاہیے۔ چوڑی پیشانی، رعب و داب اور عروج کی علامت ہے۔ چوڑی اور بھر ہوئی چھاتی جہاں حسن کے متلاشیوں کی توجہ کھینچتی ہے وہاں پھیپھڑوں کو قوت اور بیماریوں سے دور رہنے کی بھی علامت ہے۔اگر کندھے آگے کو جھکے ہوئے ہوں تو بڑے معلوم پڑتے ہیں اور پھیپھڑوں کے عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ کولھے ، پنڈلی اور ٹانگیں موٹی پسند کی جاتی ہیں اور یہ کمزوری کے نہ ہونے کا سب سے بڑا نتیجہ ہے۔

اکثر خواتین چھوٹی عمر میں پیار محبت کے چکروں میں پڑھ کر اپنی جوانی برباد کر دیتی ہیں۔ چند ایک تو غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر اپنی صحت کا بیڑہ غرق کر دیتی ہیں۔ اور جب وہ شادی کے بعد اپنے  گھر جاتی ہیں تو ہر وقت تھکن اور الجھن محسوس کرتی ہیں۔

اگر باریکی سے دیکھا جائے تو ہر عورت ملکہ حسن بننے اور ہر مرد جاذب نظر بننے کی خواہش رکھتا ہے۔ اور یہ خواہش بھی اچھی بشرطیکہ بڑی خواہشات سے جوڑ کر اس کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔

جہاں خوبصورتی ہے وہاں بیماری نہیں ہوتی۔ یا یوں کہو کہ جہاں بیماری ہوتی ہے وہاں خوبصورتی کا ہونا ناممکن ہے۔ ہاں یہ تو ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کی بیرونی شکل اور رنگ روپ اچھا نہ ہو اور اسے کوئی مرض بھی نہ ہو۔ لیکن بیماری نہ ہو اور خوبصورتی بھی ہو۔ یہ ناممکن ہے۔ بیماری ہونا خوبصورتی کی جڑ ہے۔ ایک مغربی مقولہ ہے کہ خوبصورتی دراصل صحت مند مزاج ، صحت مند دل اور تندرست جسم کا نتیجہ ہے۔ چناچہ حقیقی خوبصورتی چاہنے والوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے آپ کو ساری بیماریوں سے آزاد رکھیں۔

یاد رہے کہ خوبصورت عورت ظاہری طور پر مرد سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔ کیونکہ عورت ذات کو خدا نے ابتدا ہی سے فطری طور پر مرد سے خوبصورت اور نرم بنایا ہے۔ ہمارے ملک میں خوبصورتی کی جھلک سب سے بڑھ کر ہے۔ پھر بھی یہاں روزانہ اس میں لاپرواہی اور کمی آتی جاتی ہے۔ یہ بڑے دکھ کی بات ہے۔ اس کی خاص وجہ جیسا کہ اوپر کہا جا چکا ہے کہ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہ کرنا ہی ہے۔

About the author

Beauty Tipso

Yasir Hafeez, Student of Information and Communication Technology. Writing article on Health, Education, Beauty Tips, Beauty Tips and Tricks, Beauty Secrets, Beauty Recommendation, Beauty Tips in Urdu, Beauty tips for girls, Research, Communication, Technology is his hobby. Basically he is an IT Professional as well so he share knowledge through writing. You can also read Yasir Hafeez's articles at Beauty Tips, http://www.beautytipso.com

Leave a Comment