خوبصورتی ضروری نہیں اہم ہے ورنہ زندگی ڈھوب جاتی ہے۔

1
106
beauty tips for girls

عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ خوبصورت ہوں نہ ہوں کیا فرق پڑتا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق ہے سب کی سب جو جیسا ہے ویسا ہی اچھا ہے۔ کہنے تک تو یہ باتیں بہت اچھی لگتی ہیں مگر حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ اور شاید یہ دنیا اب بہت ہی ایڈوانس ہو چکی ہے۔ ہر مرد کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکی بیوی ، دوست یا محبوبہ خوبصورت ترین ہو۔ شاید ابھی بھی آپ کو یقین نہ آرہا ہو کیوں کہ آپکی کبھی ایسی ضرورت نہیں پڑی ہو شاید۔

میرا تجربہ تو بلکل مختلف ہے۔ میں ایک شہر کی رہائشی ہوں اور یہاں ہی بڑی ہوئی ہیں، پڑھی لکھی ہوں اور جاب بھی کرتی ہوں۔ یہ بات ان دنوں کی ہے جب میری عمر تقریبا بارہ سال تھی۔ پہلی بار انکل زید ہمارے گھر آئے اور انکے دو بیٹے بھی ان کے ہمراہ تھے۔ بڑا بیٹا شہزاد جو کہ میرے سے کافی بڑا تھا عمر میں اور چھوٹا بیٹا نوید جو تقریبا میرے جتنا ہی تھا یا پھر میری عمر سے کچھ بڑا تھا۔ مگر جسمامت میں تھوڑا کمزور تھا تو لگ میرے جتنا ہی رہا تھا۔

چند دن انہوں نے ہمارے ہاں رہنا تھا اور شاید اپنے چھوٹے بیٹے کو شہر میں کسی سکول میں ایڈمیشن بھی کروانا تھا۔ جس کے لیے میرے والد صاحب نے انکی خوب مدد کی اور نوید کا ایڈمیشن ہمارے شہر میں ہی کروا دیا۔ اب نوید نے یہاں پر ہی رہنا تھا ہمارے شہر میں اور اکثر اوقات ہمارے گھر آجاتا تھا جب کبھی چھٹی ہوتی تھی۔

نوید کا میٹرک کا امتحان اور میری پوزیشن

نوید نے اور میں نے میٹرک کا امتحان ایک ساتھ یعنی کہ ایک ہی سال دیا تھا۔ نوید کی تو کوئی پوزیشن نہیں آسکی جبکہ میری اپنے شہر کے بورڈ میں پہلی پوزیشن تھی۔ شاید میں محنتی تھی یا پھر میری قسمت اچھی تھی تب تک۔ اس دن ہمارے گھر میں خوشیوں سا سماں تھا۔ نوید بھی ہمارے گھر تھا اور مزے کے پکوان امی نے بنائے ہوئے تھے اور کچھ مہمانوں کی بھی آمد تھی اسی اثناء میں ایک فون کال موصول ہوتی ہے جو کہ ابو جان سنتے ہیں اور ایک دم سے جیسے زندگی ٹھہر سی گئی ہو۔ خاموشی سی ہو گئی ہو۔ یہ ایک واقعی بری خبر تھی اور یہ خبر تھی کہ نوید کے امی ابو شہر آرہے تھے تو راستے میں انکی ڈیتھ ہوگئی ہے۔ واقعتا یہ بہت ہی مشکل مرحلہ تھا اور نوید کو بتانا بھی مشکل کام تھا۔ اس کے لیے ابو جان نے کہا کہ نوید کو باتوں میں لگائے رکھو اور اسے اپنے کمرے میں لیجائو اسے محسوس نہ ہونے دینا کہ ایسا کچھ ہوا ہے تب تک ہم کچھ کرتے ہیں۔

نوید کو میں اپنے کمرے میں لے آئی اور پڑھائی کی باتیں اور کچھ دوستوں کی باتیں کرنے لگے۔ اس دن میں نے نوید کو اچھے سے جانا کہ وہ کتنا اچھا لڑکا ہے اور کیا کیا ارادے ہیں اسکے۔ تو جناب میں تو باتوں باتوں میں بھول ہی گئی تھی کہ اسکے امی ابو فوت ہو چکے ہیں مگر کیا تھا نوید کی باتیں اور میرا سننا۔

کافی وقت گزر گیا ہم دونوں باتیں کرتے رہے۔ تب تک میں اور نوید ایک دوسرے سے کافی باتیں کر چکے تھے اور ایک دوسرے کو کافی اچھے طریقے سے جان چکے گے۔ اتنے میں ابو جی نے دروزہ بجایا اور کہا کہ چلو تیار ہو جائو ہم گائوں جا رہے ہیں۔ ایک ایمرجنسی ہے لہذا فورا تیار ہو جائو ۔ میں تو پہلے سے ہی جانتی تھی کہ معاجرہ کیا ہے مگر نوید کچھ پریشان سا ہو گیا تھا کہ انکل بتائیں تو سہی کہ جانا کیوں ہے آج تو ابو نے آنا تھا وہ کہہ کر گئے تھے تو وہ آرہے ہوں گے میں کہیں نہیں جا سکتا۔

خیر ابو نے نوید کو سمجھایا اور منا لیا کہ ہمارا جانا لازمی ہے۔ خیر فورا سے سب تیار ہوئے اور گاڑی میں بیٹھے اور نوید کے گائوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ یہ گائوں کی طرف کا میرا پہلا وزٹ تھا۔ راستے میں جاتے ہوئے نوید سے خوب باتیں کیں اور خوب تسلیاں دیں کہ کبھی بھی زندگی میں خود کو اکیلا مت سمجھنا ہماری فیملی تمہارے ساتھ ہے اور میں ہمیشہ تمارے ساتھ ہوں وغیرہ وغیرہ۔ خیر بڑی مشکل سے گائوں جا کر پہنچے جہاں پر نوید کا چھوٹا سا گھر اور خوب لوگوں کی رش تھی۔ اور گاڑی سے اترتے ہی سب لوگ نوید کے آس پاس اکھٹے ہو گئے اور سب کہنے لگے بیٹا بس اللہ کی مرضی ۔

نوید کے والدین کی تدفین اور واپسی

وہ نوید کا رونا، وہ ماں، باپ کا سر سے سایہ اٹھ جانا مجھے آج بھی اچھے سے یاد ہے۔ میں نوید کے بارے میں پریشان ہوئی جا رہی تھی کہ اس کے لیے اب کتنا مشکل ہو گا زندگی جینا اور بہت کچھ۔ خیر وہ مرحلہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہوتا کہ جب کسی کے والدین اس دنیائے فانی سے گزرتے ہیں تو کتنا کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ لہذا یہ واقعی بہت ہی مشکل ترین دن تھے نوید کی زندگی کے۔ ویسے تو ہم کچھ زیادہ دنوں کے لیے رہنے یہاں نہیں آئے تھے مگر گائوں والوں کے اسرار پر ابو نے فیصلہ کیا کہ ہم نوید کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ تقریبا پندرہ دن رہنے کے بعد ابو نے نوید کو کہا کہ بیٹا چلو واپس چلتے ہیں جس پر اس کے بڑے بھائی نے شروع میں تو منع کیا مگر پھر ابو کے اسرار پر حامی بھر دی اور نوید تیار ہو کر ہمارے پاس آگیا ۔

نوید اب ہماری فیملی کا حصہ بن چکا تھا۔ ابو نے ایک کمرہ گھر کا خالی کرکے اسے دے دیا تھا اور وہ ہمارے ساتھ رہنے لگا۔ ایک ساتھ پڑھائی کی اور ایک ساتھ کالج، پھر یونیورسٹی پاس کی۔ ہم دونوں بہت اچھے دوست بن چکے تھے اور پیار بھی ہو گیا تھا جو کہ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے دنوں سے قصہ شروع ہوا تھا ۔

اس لمبی محبت کو لیے بلآخر وہ دن آہی گیا تھا جب نوید نے اپنے بڑے بھائی سے بات کی اور انہوں نے میرے ماں باپ سے۔ اب باری تھی شادی کی۔ مگر چونکہ ہم دونوں نے یونیورسٹی سے فراغت کی تھی لہذا ہماری نوکری کی تلاش بھی جاری تھی۔ تو ابو نے حامی تو بھر دی مگر کچھ وقت رکنے کے لیے کہا۔ اگلے چند ہی دنوں میں ہم دونوں کی نوکری بھی ہو گئی تھی۔ اب ابو تیار تھے کہ ہماری شادی کروا دیں۔ خیر ہم دونوں کی سرکاری نوکری تھی ۔ کیا کیا حسین خواب تھے۔ شاید ان دنوں میں خوبصورت بھی بہت تھی۔ جو کہ میں سمجھ رہی تھی اور شاید تھی بھی۔ اور چونکہ تعلیمی دور میں وقت بہت ہوتاتھا تو اپنے پر توجہ بھی بھرپور دیتی تھی۔ مگر بعد میں جاب اور پھر شادی کے ہو جانے کے بعد اپنے لیے وقت نکالنا بہت ہی مشکل تھا۔

شادی کا دوسرا سال اور گھریلو جھگڑے

ویسے تو میری نوید کے ساتھ اچھی دوستی تھی اور ہم دونوں میں بھی پیار بہت تھا۔ مگر اچانک نوید کا لہجہ بدلنا شروع ہو گیا اور وہ روٹھے روٹھے سے رہنے لگے۔ شروع شروع میں مجھے لگا کہ شاید وہ کام کی تھکن کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔ جس کے لیے میں نے پلان بنایا کہ کچھ دیر کے لیے گائوں چلتے ہیں تا کہ ان کا ذہن فریش ہو جائے جس پر نوید نے معذرت کر دی اور کہا کہ تم ایسا کرو کہ اکیلی چکر لگا آئو۔ جو کہ مجھے عجیب لگا اور میں بھی نہیں گئی۔ اصل حقیقت تک میں نہیں پہنچ پا رہی تھی۔ مگر اس دن نوید کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ کہنے لگا کہ میں زندگی سے تھک سا گیا ہوں۔ ہر چیز رک سی گئی ہے۔ ہر چیز مجھے بری لگنے لگی ہے پتہ نہیں کیا ہے۔

اتنا کہہ کر وہ باہر دوستوں کی طرف نکل گئے۔ مگر میرے لیے یہ جملے بہت ہی درد ناک تھے میں سوچتی رہی اور مجھے کچھ سمجھ نہیں لگی۔ خیر رات ہوئی کھانا کھایا اور سو گئے۔ اگلے دن جب میں کام پر پہنچی تو ایک آنٹی تھیں ان سے میں نے یہ مسئلہ ڈسکس کیا تو وہ کہنے لگیں۔ پتر برا نا منائیں پر مینوں تیرے خاوند دیاں حرکتاں دس ریئاں نئے اور کدھرے اور لگا ای۔

مجھے تو ایسا کوئی شک نہیں ہو رہا تھا اور مجھے وہ آنٹی اس وقت زہر لگ رہی تھیں کہ کیسے الفاظ منہ سے نکال رہی ہیں۔ خیر یہ معاملہ چند دن تک چلتا رہا۔ اور پھر نوید کا لیٹ گھر آنا پھر گھر سے باہر رہنا مجھے شک میں ڈالنے لگا۔

ابھی کوئی ایک ماہ ہی گزرا ہو گا کہ نوید نے کہا کہ میں کسی کام سے شہر سے باہر جا رہا ہوں اور شاید میں کچھ دن تک نہ آسکوں جس پر میں نے کہا کہ میں بھی ساتھ چلوں تو وہ کہنے لگے کہ تم کدھر چلو گی میں آفس کے کام سے جا رہا ہوں۔

خیر مجھے کوئی شک نہیں ہوا اور میں نے سارا سامان تیار کیا ان کا اور پھر وہ چلے گئے۔ اگلے دن آفس گئی تو ایک دوست نے کہا کہ مجھے کچھ خریداری کرنی ہے تو میرے ساتھ چلو ۔ جس پر میں نے معذرت کر لی کہ آج تو نہیں مگر کل کا رکھو تو چل سکتی ہوں تو اس نے کہا کہ نہیں مجھے آج ہی جانا ہے۔ سو میں نے منع کر دیا اور گھر آگئی۔ شام کو گھر کال آئی کہ میں بھی نہیں جا سکی تو کل اگر تم بھی وقت نکالو تو ساتھ چلتی ہیں۔ تو میں نے حامی بھر لی اور اگلے دن آفس کے بعد کا وقت مقرر کر لیا۔

آفس کے بعد ہم دونوں نے گاڑی نکالی اور مارکیٹ کو نکل گئیں۔ گھومتی رہیں اور کافی دیر مارکیٹ میں گزر گئی۔ اتنے میں میری نظر نوید پر پڑی جو کسی کم عمر لڑکی کے ساتھ شاپنگ کر رہے تھے پہلے تو مجھے لگا کہ شاید میرا وہم ہے وہ تو کہیں کام سے گئے ہوئے ہیں۔ مگر جوں ہی وہ مڑے اور میرے سامنے ہوئے تو کیادیکھتی ہوں کہ یہ تو نوید ہی ہیں۔ اور ایک خوبصورت لڑکی کا ہاتھ تھامے مارکیٹ میں شاپنگ کر رہے ہیں۔

میرے میں تو جیسے جان ہی نہیں رہی تھی اور میں چپ سی ہو گئی۔ اتنے میں نوید خود میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں تو کب سے بتانا چاہ رہا تھا مگر نہیں بتا پایا یہ میری نئی بیوی ہے اور آج سے میں اسکی طرف ہی رکوں گا۔ یہ الفاظ میرے لیے جان لیوا تھے اور شاید میں دل سے اس وقت مر چکی تھی۔ پتہ نہیں پھر کس طرح میں گھر پہنچی اور کیسے کچھ کیا۔

مگر اگلے دن نوید گھر آئے اور کہنے لگے کہ دیکھو خوبصورتی بھی زندگی کا حصہ ہوتی ہے۔ تمہیں دیکھ کر تو ایسے لگتا ہے کہ نہ جانے میں کس زمانے کی آنٹی کے ساتھ رہتا ہوں لہذا میں نے شادی کر لی ہے اب تم اپنا سوچ لو کیا کرنا ہے۔ اور کیا نہیں کرنا۔

خیر وقت گزرتا گیا اور ایک دن پھر نوید کی طرف سے مجھے طلاق موصول ہوئی اور وہ ساری یادیں وہ وعدے اور باتیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ کچھ ماہ تک تو میں ایسے ہی صدمے میں رہی کہ میں کیسے آدمی کا بھروسہ کرکے اس کے ساتھ رہتی رہی۔ خیر پھر میں نے اپنی زندگی کا مشن بنا لیا کہ اب زندگی میں خود کو خوش رکھنا ہے اور خوبصورت بن کہ رہنا ہے۔ وہ دن تھا اور آج کا دن جو مرضی کام ہو میں اپنی خوبصورتی کے لیے وقت نکالتی ہوں۔ اور الحمداللہ ابھی میرے دو بچے ہیں اور میرے خاوند اپنا بزنس کرتے ہیں اور ہم ہنسی خوشی رہ رہے ہیں۔ مگر جو بات سمجھانے کی تھی وہ یہ تھی کہ اپنی صحت اور خوبصورتی کا خیال ضرور کریں کیونکہ یہ مرد حضرات کو آپکی ہنس مکھ باتوں کے ساتھ ساتھ آپ کی خوبصورتی بھی چاہیے ہوتی ہے جو کہ ضروری بھی ہے۔

1 COMMENT

  1. It’s serious it cosmetics cc cream shade chart “The jury’s decision concerned a single Countrywide program that lasted several months and ended before Bank of America’s acquisition of the company,” Bank of America spokesman Lawrence Grayson said. “We will evaluate our options for appeal.”

Comments are closed.